Advertisements

Imran Khan Gambles for Party Loan – پارٹی قرضہ اتارنے کے لیے عمران نے جوا کھیلا

-->

Imran Khan a popular Pakistani Leader now a days in youth after winning 1992 one and only world cup for Pakistan, says in his autobiography that the hardest time on his party was when in 2002 all his candidates lost and he was the only one who one the election, as a result many left his party, some sit in their homes and only few were with him specially Saifullah Khan Niazi and Arshad khan were standing like a rock with him in a hard time of party.
Imran Khan says at that time they were striving with loans on their party so in his visit to London he gambled with Gold Smith brother of Jamaima Khan, they earned a lot in that gambling not only he paid £10,000 to Gold Smith, Imran earned a lot which was enough to wave their party loans.

اسلام آباد (رؤف کلاسرا) عمران خان نے اپنی خود نوشت میں یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ بیوی جمائمہ خان کے بھائی بین گولڈ اسمتھ کے ساتھ مل کر انگلینڈ اور ساؤتھ افریقہ کے درمیان ہونے والے ایک میچ پر جواء کھیل کر ہزاروں پاؤنڈ کمائے تھے جو انہوں نے بعد میں اپنی پارٹی کے اوپر واجب الادا قرض اتارنے کیلئے استعمال کیے۔
عمران خان نے اپنے بارے میں یہ تازہ ترین انکشاف اپنی مارکیٹ میں آنے والی خود نوشت میں کیا ہے جو پاکستان میں فروخت کیلئے پیش کی گئی ہے۔
پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالم نگار ہارون الرشید جن کا تعارف عمران خان نے اپنی کتاب میں اپنے ایک صحافی دوست کے طور پر کرایا ہے، اس خود نوشت کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کر رہے ہیں کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہارون الرشید کے پائے کی اردو اور نثر پاکستان میں شاید کوئی اور صحافی لکھ سکتا ہو۔ ٹاپ سٹوری آن لائن سے بات کرتے ہوئے ہارون الرشید نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ آجکل عمران خان کی اس خود نوشت کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کر رہے تھے جو بہت جلد مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔ ہارون الرشید کو پاکستان میں عمران خان کے ذاتی دوستوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور جتنا انہیں عمران کی ذاتی زندگی کے بارے میں چیزوں کا علم ہے شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں اس لیے ان کے ذمے یہ کام لگایا گیا ہے کہ وہ اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کریں۔
دریں اثناء عمران نے اپنے بارے میں ایک ایسا نیا انکشاف کیا ہے جو شاید ان کے سیاسی مخالفین ایک دفعہ پھر انہیں تنقید کا نشانہ بنانے کیلئے استعمال کریں۔ یہ علیحدہ کہانی ہے کہ پاکستان میں جتنے سکینڈلز عمران خان کے بارے میں شائع ہوئے ہیں یا ان پر بحث و مباحثہ کیا گیا ہے اس کے بعد بھی وہ اس وقت حالیہ Surveys کے مطابق پاکستان کے تمام سیاستدانوں سے مقبولیت کے لحاظ سے آگے ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے لوگوں کیلئے اس طرح کے سکینڈلز کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ چیزیں کسی کے کیریئر کو تباہ کر سکتی ہیں کیونکہ لوگ عمران خان کے اتنے سکینڈلز کے باوجود انہیں دیگر سیاستدانوں سے بہتر، ایماندار اور زیادہ محب الوطن سمجھتے ہیں۔
عمران خان لکھتے ہیں کہ اکتوبر 2002ء کے بعد ان کی پارٹی تحریک انصاف کا اپنی تاریخ کا سب سے مشکل دور شروع ہوا۔ اگرچہ 1997ء کے الیکشن میں بری طرح شکست کے بعد ان کی پارٹی کیلئے حالات بہت مشکل ہو گئے تھے۔ تاہم 2002ء کے انتخابات کے بعد ہی حالات مزید خراب صورتحال کا شکار ہو گئے۔ عمران لکھتے ہیں:
’ میں صرف اکیلا ہی الیکشن جیتا تھا اور پوری پارٹی اس وقت شدید انتشار کا شکار تھی۔ ہمارے لیے میدان میں رہنا ایک بہت بڑا سوال بن گیا تھا اور اب بمشکل ہی سیاسی طور پر زندہ تھے۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر تمام تر برے حالات کے باوجود بھی میں اپنی ایک سیٹ نہ جیتتا کیونکہ جنرل مشرف کی ساری حکومت مجھے ہرانے پر تلی ہوئی تھی تو شاید ہماری پارٹی ہی ختم ہو جاتی۔ (میں نے یہ سیٹ محض پانچ ہزار ووٹوں کے مارجن سے جیتی تھی۔) ایک سیٹ جیت کر میں صرف اپنی پارٹی کو سیاسی طور پر زندہ رکھ سکتا تھا لیکن یہ بھی بہت مشکل کام تھا کیونکہ پارٹی کے صرف بیس اعلیٰ عہدیدار ہی متحرک تھے اور انہیں بھی سیاسی طور پر مزید متحرک رکھنا بہت مشکل تھا۔ دوسرے عہدیداروں نے یا تو پارٹی چھوڑ دی تھی یا پھر چپ کر کے گھر بیٹھ گئے تھے۔ اس مشکل وقت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے اس بات کا پہلی بار احساس ہوا کہ میری اصل ٹیم میں کون لوگ تھے۔ ہمیشہ آپ کو بحران کے دنوں میں ہی اپنے اردگرد کے لوگوں کی اوقات کا پتہ چلتا ہے۔ اس برے وقت میں جو سب سے زیادہ ایک پہاڑ کی طرح میرے ساتھ کھڑا رہا اس کا نام سیف اللہ نیازی تھا اس کے علاوہ راشد خان نے بھی اس برے وقت میں بھی میرے ساتھ موجود رہا۔
ان انتخابات میں میری پارٹی کے اوپر بہت سارے قرضے چڑھ گئے تھے۔ ہم اسلام آباد میں ایک بڑے دفتر سے شفٹ کر کے پارلیمنٹ لاجز میں دیئے گئے میرے کمرے میں شفٹ ہو گئے جو مجھے قومی اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے ملا تھا۔
میں نے اپنے اوپر چڑھے اس قرضے کو ایک انتہائی غیر معمولی طریقے سے اتارا۔
میں لندن میں اپنی فیملی کے ساتھ تھا اور میرے برادر نسبتی بین گولڈ اسمتھ مجھ سے بار بار ایک ہی بات پوچھتا کہ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے ٹیسٹ میچ کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ مجھے پتہ چلا کہ اس کی اس ٹیسٹ میچ میں دلچسپی کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس پر جواء کھیل رہا تھا۔ میں نے یہ میچ دیکھنے کا فیصلہ کیا اور مجھے پتہ چلا کہ موصوف دس ہزار پاؤنڈ پہلے ہی جوئے پر ہار چکے تھے۔ میں نے اسے بتایا کہ اگر وہ مجھ سے میچ کے بارے میں ٹپس لینا چاہتا تھا تو پھر مجھے یہ میچ دیکھنا پڑے گا۔ تاہم جب وہ اپنے ہارے ہوئے دس ہزار پاؤنڈ واپس جیت لے گا تو اس کے بعد جیتا ہوا ہر ایک پاؤنڈ میری پارٹی کے اوپر چڑھے قرضے اتارنے کیلئے استعمال ہوگا۔
میں نے اپنی پوری زندگی کبھی جواء نہیں کھیلا اور نہ ہی اس میں موجود کشش کی مجھے سمجھ آئی ہے۔ تاہم اپنی پارٹی کے اوپر چڑھے قرضے اتارنے کیلئے میں نے اگلے دو دن تک بین گولڈ اسمتھ کے ساتھ یہ میچ پورا دیکھا اور اسے بتاتا رہا کہ اب اس نے کب کیا کرنا تھا۔ نہ صرف ہم نے بین کے دس ہزار پاؤنڈ واپس جیت لیے بلکہ اتنے پاؤنڈز اور بھی کما لیے کہ میری پارٹی کا پورا قرضہ بڑے آرام سے اتر گیا۔
ایک مرحلے پر اس بکی نے پوچھا ’’مسٹر گولڈ اسمتھ کہیں آپ اپنے بہنوئی کے ساتھ تو نہیں بیٹھے ہوئے؟‘‘

imran khan gambles with wife's brother

© 2014 Just Scandals. All rights reserved.
Free Stock Photos | Islamic Wallpapers .
Free WordPress Themes
freshlife WordPress Themes Theme Junkie