Saudi police arrested 20 Air hostess which were involved in immoral activities and working as a sex worker. Police arrested the leader of these sex workers, who was managing the meeting points and their accommodation as well as Transportation.
All these sex workers are the employee of a local Air Line and were working at 3000 Riyals per night. Their agent use to pay 200 Riyals to taxi drivers for dropping these Air hostess cum sex workers to their destinations for meeting with clients.

سعودی عرب کی پولیس آمر بالمعروف نے جدہ کے ایک بنگلے پر چھاپہ مارکر 20 کی تعداد میں ایسی ائیرہوسٹسوں کوبمع ایک دلال کےگرفتار کرلیا جو جسم فروشی کے دھندے میں ملوث تھیں ۔ اس نیٹ ورک کا انکشاف ایک خفیہ اطلاع کے ذریعے ہوا۔آمربالمعروف نے خفیہ کاروائی کے دوران اس ناپاک حرکت کے ڈورے ہلانے والے ایجنٹ تک رسائی حاصل کرکے سارے منصوبے کوبے نقاب کردیا۔ سعودی جریدے “سبق” کی رپورٹ کے مطابق سعودی پولیس کو4 ماہ قبل یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ جدہ کے ایک محلہ حی الروضہ میں کچھ مشکوک سرگرمیاں جاری ہیں ،جس کا کھوج لگا کر بالاخر جدہ پولیس نے فحاشی کا نیٹ ورک چلانے والے دلال سے متعلق پوری معلومات حاصل کرکے اسکو گرفتار کرلیا۔
واقعے میں ملوث ایجنٹ انتہائی محتاط رہ کرسارے معاملات ٹیلی فون پر طے کرتاتھا۔ اس منصوبے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ساحل کے ایک ہوٹل سے ایک لڑکے کے ساتھ ایک ائیرہوسٹس لڑکی کوگرفتار کرلیا گیا جہاں پولیس تحقیقات کے دوراں لڑکی نے مذکورہ ایجنٹ سے متعلق پوری تفصیلات بتا دیں ۔ائیرہوسٹس کے مطابق ایجنٹ کو ایک رات کے 3 ہزار ریال ملتے تھے لڑکیوں کومقررہ مقامات تک پہنچانے کے لئے وہ ڈرائیور کو2سو ریال دیتا تھا جو لڑکیوں کو ہوٹلوں اور فلیٹوں میں پہنچانے کا کام انجام دیا کرتا تھا۔ ایجنٹ لڑکیوں اور عیاش مردوں کے ساتھ سارے معاملات بذریعہ فون طے کرتا تھا بعدزاں لڑکیاں اپنی رضامندی سے طے شدہ مقامات پرپہنچ جاتی تھیں جہاں انہیں رنگین راتیں گزارنے کامعاوضہ ملتا تھا۔
واضح رہے کہ تمام ائیرہوسٹس کا تعلق عرب ممالک سے ہے جو ایک ائیرلائن کمپنی سے وابستہ ہیں اور اس وقت پولیس ان سے تفتیش کررہی ہے جس کے نتیجے میں مزید انکشافات کی توقع ہے ۔
News Source: Ahwaal

