Advertisements

پاکستان میں جسم فروشی میں خطرناک حدتک اضافہ

-->

Prostitution in Pakistan

کراچی (این این آئی) مہنگائی اور بےروزگاری ،پاکستان میں جسم فروشی میں خطرناک حدتک اضافہ ،پاکستان میں سیکس ورکرز کی تعداد 15لاکھ سے تجاوز کرگئی ، سیکس ورکر خواتین میںنہ صرف مقامی بلکہ بنگلہ دیش، بھارت، برما، افغانستان اور روسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل ہیں۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس مانیٹرنگ گروپ (IHRM)کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جسم فروشی کے پیشے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،ان جسم فروش عورتوں میں44فیصد خواتین غربت ،32فیصد دھوکے اور فریب،18فیصد جبر وتشدد،4فیصد وہ خواتین جو انہی گھرانوں میں پیدا ہوئیں اور 2فیصد اپنی مرضی سے شامل ہیں۔ ان میں سے 41.8فیصد خواتین 18سے 25سال کی ہیںجبکہ 6.21فیصد لڑکیاں18سال سے کم عمر کی ہیں۔ 56.79فیصد خواتین ان پڑھ ہیں اور 47فیصد سیکنڈری سکول کی تعلیم سے لیکر کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہیں جبکہ30فیصد غیر شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ70فیصد شادی شدہ خواتین شامل ہیں۔ ان خواتین میں نہ صرف مقامی بلکہ گزشتہ 10برسوں میں بنگلہ دیش سے 5لاکھ خواتین ،برما سے 20ہزار ،افغانستان سے ایک لاکھ اور روسی ریاستوں اور دیگر ممالک سے ہزاروں خواتین پاکستان آئیں اور جسم فروشی کے پیشہ سے منسلک ہوگئیں۔رپورٹ کے مطابق اس بے راہ روی کے نتیجے میں ایڈز جیسی موذی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور اب تک80ہزار کے قریب افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اسی طرح خواتین سیکس ورکرز کے مقابل جسم فروش لڑکوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جن میں نو عمر بچوں کی زیادہ تعداد قابل تشویش ہے۔یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ جہاں ایک عام لڑکی اس پیشے میں25سے30 ہزار روپے کما تی ہے وہیں یہ لڑکے50 سے 70ہزار روپے کما لیتے ہیں۔جسم فروشی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون(نائیکہ )نے بتایا کہ جسم فروشی میں معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں ان میں ایسی خواتین بھی ہیں جو صرف100 روپے میں اپنی عزت بیچ دیتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اپنے آپ کو پیش کرنے کیلئے لاکھوں روپے وصول کر تی ہیں۔ غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کررہی ہیں اور ان کے بچے دو وقت کی روٹی کو بھی ترستے ہیں جبکہ بعض خواتین نے پوش علاقوں میں عالیشان مکانات بنائے ہوئے ہیں اور ان کی ہلکی سی مسکراہٹ پر سونے چاندی کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ یہ کیسی بد قسمتی کی بات ہے کہ جہاں پر ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے وہاں عورت کی عصمت سستی ہوتی جا رہی ہے۔چند سال پہلے تک جس معیار کی لڑکی5000روپے میں ملتی تھی اب اسی معیار کی لڑکی کی قیمت صرف ایک ہزار روپے ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے کہا کہ مہنگائی اور غربت کی وجہ سے اس پیشے میں لاتعداد لڑکیاں شامل ہو گئی ہیں۔کیونکہ مال اب زیادہ ہو گیا ہے اور گاہک کم پڑ گئے ہیں۔گاہک کم پڑ جانے کی وجہ بھی اس نے مہنگائی اور بےروزگاری کو قرار دیا اور بتایا کہ اب یہ کام صرف امیر زادوں کا رہ گیا ہے یا جو دو نمبر کمائی کے ذرائع رکھتے ہیں۔ اب گاہکوں میں متوسط اور کم آمدنی والے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ورنہ پہلے کم آمدنی والے افراد بھی یہ شغل کر لیا کرتے تھے مگر اب ان کی جیب اجازت نہیں دیتی۔ سیکس ورکرز کے حوالے سے کام کرنے والے ایک رکن نے بتایا کہ جسم فروشی میں اگرچہ ہیجڑوں کا بھی کردار ہے مگر موجودہ دور میں نو عمر بچوں کی شمولیت خاصی تشویش کی بات ہے۔کچھ عرصے سے سیکس ورکر لڑکوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ ان میں14/15سال کے لڑکوں سے لیکر25/30سال تک کے لڑکے شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ لڑکوں کی جسم فروشی اس معاشرے میں کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک عرصے سے ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان لڑکوں میں، ان پڑھ اور کم پڑھے لکھے لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ گریجویٹ سطح کی تعلیم رکھنے والے بھی شامل ہیں۔ یہ لڑکے50ہزار سے70ہزار روپے تک ماہانہ کماتے ہیں جبکہ وہ لڑکے جو غیر ملکی سیاحوں وغیرہ کیلئے کام کرتے ہیں وہ ان سے زیادہ کماتے ہیں جبکہ انگریزی زبان بھی بولنا جانتے ہیں۔کراچی کی سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ کے ریجنل پرموشن منیجر سلام دریجو کا کہنا ہے کہ اگرچہ بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں تو بہت ہیں مگر خصوصا سیکس ورکر بچوں کے حوالے سے کوئی خاص کام نہیں ہو رہا۔ ابھی تک شہر میں اس پیشے سے منسلک بچوں کی حتمی تعداد کا بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکا کیونکہ ان میں30ہزار سے زائد اسٹریٹ چلڈرن (یتیم، بے سہارا، گھروں سے بھاگے ہوئے)بچے بھی شامل ہے۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس مانیٹرنگ گروپ(IHRM) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس پیشے سے منسلک کل خواتین میں سے44فیصد غریب ہیں اور56.69فیصد ان پڑھ ہیں جن کی ضروریات زندگی ہی بمشکل پوری ہوتی ہیں اور بیماری کی صورت میں اپنا علاج نہیں کرا سکتیں اور نہ ہی بیماری سے بچاﺅ کے طریقوں سے واقف ہےں۔انھوں نے کہا کہ اب چونکہ یہ کام کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے تو اس حوالے سے دیگر تنظیموں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور کراچی کی طرز پر ایسی ورکشاپس اور سیمینارز کراوئیں کہ جن میں ان سیکس ورکرز کو محفوظ سیکس کے حوالے سے تعلیم دی جا سکے تاکہ ایڈز اور دیگر موذی امراض سے بچا جا سکے۔ کیونکہ1987ءمیں پاکستان میں ایڈز کا پہلا مریض رپورٹ کیا گیا تھا جبکہ اب 70سے80ہزار افراد ایڈز میں مبتلا ہیں اور یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس مانیٹرنگ گروپ کے ایک سروے کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں بنگلہ دیش سے 5 لاکھ خواتین ،برما سے 20 ہزار ،افغانستان سے ایک لاکھ اور روسی ریاستوں اور دیگر ممالک سے ہزاروں خواتین پاکستان آئیں اور جسم فروشی کے پیشہ سے منسلک ہوگئیں ان میں سے متعدد خواتین ایسی ہیں کہ جنہوں نے اس پیشہ کواپنی مرضی سے اپنایا جبکہ اکثریت ایسی خواتین کی ہے کہ جن کو ان کی مجبوریاں اس پیشہ میں لانے کا سبب بنیں۔ان لڑکیوں کو لانے والے گروہوں کے ارکان بنگلہ دیش اور برما سے نوجوان لڑکیوں کو ملازمت اور مستقبل کے سنہرے خواب دکھا کر لاتے ہیں اوربعد میںانھیں ملک کے مختلف شہروں میں فروخت کر دیا جاتا ہے اور یوں یہ لڑکیاں بازار حسن کی زینت بن جاتی ہیں۔جسم فروشی سے متعلق کام کرنے والی ایک تنظیم کے رکن نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی جسم فروشی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غربت و افلاس کے مارے لوگ کئی برسوں سے متواتر مہنگائی کی صعوبتیں برداشت کرتے آ رہے ہیںاور اس کے اثرات نسل در نسل منتقل ہو رہے ہیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے جہاں پر بنیادی ضروریات زندگی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے وہاں امیر اور غریب کے درمیان بھی تیزی سے ایک خلیج پیدا ہو رہی ہے جس وجہ سے نو جوان لڑکے مجبور ہو کر اپنی مالی حالت بدلنے کے لیے چوری چکاری اور ڈاکے ڈالنے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ اسی طرح جوان لڑکیاںبھی پیسے کمانے اور گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے اپنے جسموں کو فروخت کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔اس بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے دن بدن اس پیشے سے وابستہ افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے مہنگائی کے حوالے سے یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں غربت کے حوالے سے پانچویں اور دنیا میں ایک سو ایک ویں نمبر پر تھا۔ پچھلے سال تک پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 5.5 فی صد اور بے روزگارافراد کی تعداد 29 لاکھ تھی۔ملک کی 22.6 فیصد آبادی یومیہ سوا ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی بسر کررہی ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے سات ممالک میں سے پاکستانی عوام کو بدترین مہنگائی کا سامنا ہے جس کے باعث عوام کیلئے زندگی کی گاڑی چلانا ممکن نہیں رہا۔ سفید پوش عوام کا جینادوبھر ہوکر رہ گیا ہے۔

© 2014 Just Scandals. All rights reserved.
Free Stock Photos | Islamic Wallpapers .
Free WordPress Themes
freshlife WordPress Themes Theme Junkie