Advertisements

ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت

-->

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کے ملزم ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت اور دو لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کی سزا سُنائی ہے۔

ملزم کے وکلاء نے اس عدالتی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے اس فیصلے کی بنیاد ملزم ممتاز قادری کے اُس بیان کو بنایا جو اُنہوں نے اسلام آباد کے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے دیا تھا۔اس بیان میں اُنہوں نے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے اعتراف کے علاوہ اسے اپنا ذاتی فعل قرار دیا تھا۔

کلِک ممتاز قادری پر فرد جرم عائد

کلِک مذہب کے نام پر

دوسری جانب ممتاز قادری کے وکیل ملک رفیق نے اس عدالتی فیصلے کو قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک واقعہ میں کسی بھی ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالت نے ملزم ممتاز قادری کے بیان کی بنیاد پر مقدمے کا فیصلہ سنایا ہے اور اسے قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی ہے تو اس میں دہشت گردی کی دفعہ کے تحت کوئی ثبوت سامنے نہیں لائے گئے۔

ممتاز قادری کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی گزشتہ سماعت کے دوران یہ طے ہوا تھا کہ استغاثہ کے وکیل سیف الملوک کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب پر وہ جواب الجواب دلائل دیں گے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

ملک رفیق کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں متعلقہ عدالت کے جج پر کونسا دباؤ تھا جس کی بنا پر وہ سنیچر کے روز صبح آٹھ بجے ہی عدالت میں چلے گیے اور انہوں نے فوری فیصلہ بھی سُنا دیا۔

دریں اثناء ملزم ممتاز قادری کو دی جانے والی سزا کے عدالتی فیصلے کے خلاف مذہبی جماعتوں اور وکلاء نے سینچر کو راوپنڈی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے سڑک بلاک کی اور اس فیصلے کے خلاف آئندہ جمعے کو ہڑتال کی کال بھی دی ہے۔

ممتاز قادری کا کہنا تھا کہ چونکہ سلمان تاثیر توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے انھوں نے گورنر پنجاب کو قتل کیا۔

واضح رہے کہ پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے اہلکار مجرم ممتاز قادری گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی سکیورٹی پر تعینات تھے اور اس سال چار جنوری کو اسلام آباد کے علاقے ایف سکس میں اُنہوں نے سلمان تاثیر کو سرکاری اسلحہ سے فائرنگ کر کے اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ ایک ریستوران سے باہر آ رہے تھے۔

کسی کو بھی اس بات کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ کون توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے اور کون نہیں، یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے
جج پرویز علی شاہ
سنیچر کو اس مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج پرویز علی شاہ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کسی کو بھی اس بات کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ کون توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے اور کون نہیں، یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرم ممتاز قادری سات روز کے اندر اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ورثاء کو معاوضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم کو چھ ماہ قید بامشقت کی قید بھی کاٹنا ہوگی۔

فیصلے کے دوران مجرم ممتاز قادری کمرہ عدالت میں موجود تھے اور جیل حکام کے مطابق فیصلے کے فوری بعد مجرم کو ڈیتھ سیل میں منتقل کردیا گیا۔

مذکورہ جیل میں ڈیتھ سیل ایک چھوٹے سے کمرے کو قرار دیا گیا ہے جہاں پر ایک ہی وقت میں چھ سے سات قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جنہیں عدالتوں نے موت کی سزا سُنائی ہو۔

فیصلے کے دوران مجرم ممتاز قادری کمرہ عدالت میں موجود تھے اور جیل حکام کے مطابق فیصلے کے فوری بعد مجرم کو ڈیتھ سیل میں منتقل کردیا گیا۔
جیل حکام کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کو سخت سکیورٹی حصار میں اڈیالہ جیل لایا گیا اس کے علاوہ اس مقدمے کے سرکاری وکیل سیف الملوک نے تین روز قبل ہی اپنی حمتی بحث عدالت میں جمع کرا دی تھی جس میں اُنہوں نےموقف اختیار کیا تھا کہ ممتاز قادری نے خود اعتراف جُرم کیا ہوا ہے اس لیے اب اُن کے ساتھ کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتنی چاہیے۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل کو بھی پولیس کے سخت پہرے میں مقدمے کی پیروی کے لیے اڈیالہ جیل لایا جاتا تھا۔

اس مقدمے میں ملزم کے وکلاء کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا ہے جو سرعام توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے اور قانون میں جس کی سزا موت ہے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران اڈیالہ جیل کے باہر ممتاز قادری کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے۔

سلمان تاثیر نے متعدد بار اس بات کا برملا اظہار کیا تھا کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

سلمان تاثیر بطور گورنر شیخو پورہ جیل میں اُس خاتون سے بھی ملنے گئے تھے جسے توہین رسالت کے مقدمے میں عدالت نے سزا سُنائی تھی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے لاہور سے اغواء کیا تھا جو ابھی تک بازیاب نہیں ہو سکے۔

mumtaz qadri

© 2014 Just Scandals. All rights reserved.
Free Stock Photos | Islamic Wallpapers .
WordPress Blog
freshlife WordPress Themes Theme Junkie