Advertisements

فہمیدہ مرزا کے منظور نظر افسر شمعون ہاشمی ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کے فراڈ میں تفتیش سے قبل بے گناہ قرار

-->

shamoon scandals

ایف آئی اے لاہور کی ٹیم کی ایک ماہ پرانی تمام کوشسوں پر اس وقت اوس پڑ گئی جب سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے منظور نظر سٹاف افسر شمعون ہاشمی کی ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کے فراڈ میں تفتیش ہونے سے قبل وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنے ماتحت ڈاریکٹر جنرل ایف آئی اے کو پیغام دیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی لاہور رجسٹری میں جمعرات کو اس معاملہ میں جو رپورٹ پیش کی جانی ہے اس میں ہاشمی کو بے گناہ قرار دیا جایا۔
مفرور شمعون ہاشمی جو اب تک ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونے سے گریزاں تھے، بدھ کو لاہور میں اس سکینڈل کی تفتیش کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے جہاں ان سے تین گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔ شمعون ہاشمی سے اس سکینڈل کے حوالے سے مخلتف سوال و جواب کیے گئے اور ان سے پوچھا گیا کہ ان کا لاہور کی ہاؤزنگ سوسائٹی میں ہونیو الے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کے فراڈ میں کیا کردار ہے اور سب سے بڑھ کر کہ اس فراڈ کا مرکزی ملزم اور ان کا بردار نسبتی زیشان افضال، جو ان کے گھر رہتا ہے، وہ کہاں غائب ہے۔
____________________
فراڈ کیس: شمعون ہاشمی شامل تفتیش ہونے پر راضی
فہمیدہ مرزا کا چہیتا افسر فراڈ کیس میں مطلوب
فہمیدہ مرزا کو پسند ہے پروٹوکول میں نئی گاڑی
_____________________
اس دوران ایک اور اہم بات کا انکشاف ہوا کہ اس سکینڈل کا ایک اور بڑا ملزم مولانا محمد سپاہ صحابہ پاکستان کے مقتول رہنماء اعظم طارق کا سگا بھتیجا ہے جو زیشان افضال کی طرح مفرور ہے۔ ملزم مولانا محمد مولانا عالم طارق کا بیٹا ہے جو مولانا طارق اعظم کے سگے بھائی ہیں۔ مولانا محمد نے مبینہ طور پر شمعون ہاشمی کے برادر نسبتی زیشان کے ساتھ مل کر ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کے فراڈ کا منصوبہ بنایا اور کامیابی سے ایک چیک کو چوری کرا کے رقم ہاؤزنگ سوسائٹی کے اکاؤنٹ سے نکلوا اسلام آباد ٹرانسفر بھی کرالی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مرحلے پر مولانا محمد ایف آئی اے سے مزاکرات کر رہا تھا کہ اگر اسے اس سکینڈل کا سلطانی گواہ بنا لیا جائے تو وہ سب کچھ بتانے کو تیار ہے کہ کس نے کیا کردار ادا کیا اور کس نے کیا کھایا۔ تاہم جب ایف آئی اے نے اسے کہا کہ وہ ان سے ملاقات کر کے تمام معاملات طے کرے تو وہ مقررہ وقت پر ملاقات کی جگہ پر نہیں آیا اور اب تک مفرور ہے۔
شمعون ہاشمی خود ایک صحافی کے بیٹے ہیں۔ ان کا قومی اسمبلی میں آنا بھی سفار ش کے علاوہ تعلقات کا کرشمہ تھا ۔ شمعون ہاشمی کی قسمت اس وقت کھل گئی گئی جب ڈاکٹر فہیدہ مرزا سپیکر قومی اسمبلی بنیں اور وہ انہیں کے آر ایل ہسپتال سے ڈپیوٹیشن پر قومی اسمبلی لے آئیں ۔ شمعون ہاشمی کے آر ایل ہسپتال میں گریڈ سترہ میں ایک معمولی پبلک ریلیشن افسر کے طور پر کام کر رہے تھے لیکن قومی اسمبلی میں آتے ہی انہیں گریڈ اٹھارہ دے دیا گیااور پھر بغیر کسی تجربے کے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
اور پھر نہ صرف انہیں قومی اسمبلی میں مستقل ملازمت دے دی گئی بلکہ کے آر ایل ہستپال سے ڈیپوٹیشن پر آنے کے صرف دو برس کے عرصہ میں انہیں گریڈ بیس میں جوائنٹ سیکرٹری لگا دیا گیا۔ اتنی تیز رفتار ترقی پاکستان کے سرکاری محمکوں میں اس سے پہلے کبھی دیکھنے یا سننے کو نہیں ملی۔ اسی لیے شمعون بڑے فخر سے اپنے آپ کو پاکستان کا سب سے کم عمر ترین جوائنٹ سیکرٹری کہتے سنے جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شمعون ہاشمی شامل تفتیش ہونے پر اس وقت راضی ہوئے جب فہمیدہ مرزا نے رحمن ملک کو فون کیا اور کہا کہ ان کے سٹاف افسر کی جان ایف آئی اے سے چھڑائی جائے۔ اس پر رحمن ملک نے ڈی جی ایف آئی اے جاوید اقبال کو فون کر کے کہا کہ وہ لاہور میں ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ کو یہ بتا دیں کہ شمعون ہاشمی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ ایف آئی اے حکام نے انہیں بتایا کہ زیشان افضال کے شناختی کارڈ پر شمعون ہاشمی کے گھر کا ایڈریس ہے اور وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں تو رحمن ملک نے کہا کہ انہیں اس سے غرض نہیں ہے ۔ ایف آئی اے حکام نے وزیر داخلہ کو یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ انہیں دوران تفتیش کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جس سے شمعون ہاشمی کو شامل تفتیش کرنا ضروری ہے۔
رحمن ملک کو بتایا گیا کہ اگر شمعون ہاشمی تفتیش کے لیے پیش نہ ہوا تو پھر ایف آئی اے کے لیے اسے کلین چٹ دینا مشکل ہوگا، کیونکہ اس کے شامل تفتیش ہونے کی صورت میں ان کے لیے عدالت کو یہ کہنا آسان ہو جائے گا کہ شمعون ہاشمی سے تفتیش کی گئی لیکن وہ اس معاملے میں بے قصور پائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس پر رحمان ملک شمعون ہاشمی کو شامل تفتیش کرانے پر رضامند ہوئے۔
اس رپورٹر سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے لاہور کے ایک افسر نے بتایا کہ شمعون ہاشمی بدھ کو گیارہ بچے پیش ہوئے اور ساڑھے تین بجے تک ان سے سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم اس افسر نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ شمعون سے تین گھنٹے کی تفتیش کے دوران کیا سوالات کیے گیے اور انہوں نے کیا جوابات دیے۔ دوران گفتگو لگ رہا تھا کہ وہ افسر انتہائی ناخوش ہیں جیسے ان پر دباؤ ہے اور وہ کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ تاہم ایک سوال کے جواب میں اس افسر نے کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ایف ائی اے کی ٹیم شمعون ہاشمی کے جوابات اور وضاحت سے مطمئن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس سکینڈل کی تفتیش چل رہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ تعین ہوگا کہ کس کا اس سکینڈل میں کیا کردار تھا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اس بنچ کی سربراہی کر رہے ہیں جو جمرات کو (آج) ایک کروڑ بیس لاکھ روپے فراڈ کے اس کیس کی سماعت کرے گا۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے سکینڈل میں جو بات بہت حیران کن ہے وہ یہ کہ اس سکینڈل معاملے کے جو کرادر سامنے آئے ہیں اگرچہ وہ دو متحارب فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن فراڈ کی رقم مل بانٹ کر کھانے میں یہ امر کوئی رکاوٹ نہیں بنا۔

© 2014 Just Scandals. All rights reserved.
Free Stock Photos | Islamic Wallpapers .
WordPress主题
freshlife WordPress Themes Theme Junkie