Advertisements

انتخاب عالم پاکستانی کرکٹ کا سب سے بڑا ’جاہل`- شعیب اختر

-->

پاکستان کے فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ اور مینجر انتخاب عالم کو پاکستان کا سب سے بڑا ’جاہل‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ موصوف کو یہ پتہ تک بھی نہیں کہ آؤٹ اور ان سوئنگ کیا ہوتی ہے اور پنتالیس سال پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ گزارنے کے بعد بھی وہ کسی کام کے نہیں ہیں اور انہیں اونگھنے کے سوا اور کوئی کام نہیں آتا ۔
اپنی آٹو بائیوگرافی میں اگر شعیب اختر نے کسی پر بہت سخت حملے کیے ہیں اور اسے ’جاہل‘ تک قراردیا ہے تو وہ انتخاب عالم ہے۔ اگرچہ شیعب نے وسیم اکرم اور وقار یونس اور کچھ اور کھلاڑیوں پر بھی تنقید کی ہے لیکن بات تنقید کی حد تک رہی ہے۔ تاہم شیعب نے انتخاب عالم کا جو حشر اپنی کتاب میں کیا ہے وہ اگر انتخاب عالم خود پڑھ لیں تو شاید کئی دنوں تک سو نہ سکیں۔ اس طرح شعیب نے آسٹریلوی سابق کپتان گریگ چپیل پر بھی سخت حملے کیے ہیں جس نے شعیب کے باؤلنگ ایکشن پر پہلی دفعہ اعتراض کیا تھا، لیکن اس طرح پھر بھی نہیں جیسے اس نے انتخاب عالم پر کیے ہیں۔

شعیب اختر نے لکھا ہے کہ کیسے پاکستانی بورڈ ہر وقت چاہتا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم جیت کر لوٹے۔ اس کہا یہ کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ کبھی آپ ہارتے ہیں تو کبھی جیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے جتنے بھی کوچز اب تک گزرے ہیں وہ ٹیم کی پرفارمنس پر زور دینے کی بجائے بورڈ کو خوش کرنے پر لگے رہتے ہیں تاکہ ان کی نوکری چلتی رہے اور خوشامدی بن جاتے ہیں۔ شیعب کا کہنا ہے کہ
’ وسیم راجہ ایک عجیب طرح کے ٹیم کوچ تھے۔ وہ ہر وقت ناراض رہنے والا کوچ تھا جو مسلسل غصے میں رہتا تھا۔ میں خوش قسمت رہا کہ اس دور میں جب وہ کوچ تھے تو میں زخمی تھا۔ میں نے اس وقت کے جتنے کھلاڑیوں سے ان کے بارے میں سنا ہے اس سے مجھے یقین ہے کہ کسی کھلاڑی کو کوئی پتہ نہیں چلا ہو گا کہ وہ ان سے کیا چاہتے تھے۔ ہاں میں اس وقت ٹٰٰٰیم میں تھا جب جاوید میانداد کوچ بنے۔ میرا خیال ہے کہ میرے میچ فٹنس نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ جاوید میانداد تھا۔ مجھے اپنے سوالات کے جوابات کے لیے کسی دوسرے کی مدد کی ضروت پڑتی تھی۔ میں خصوصا میگزین اور دوسری اکیڈمیوں کے کوچز سے مشورے کر رہا ہوتا تھا جیسے کہ ڈیرل فوسٹر اور آئن پانٹ۔
intikhab alam
عمومی طور پر پاکستانی کوچز سے ٹیم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ وہ گندی سیاست کرتے رہتے تھے۔ وہ محض رقم کمانا چاہتے تھے اور بڑھاپے میں سفر کرنے کے شوقین تھے۔ آپ انہیں کھیل کے بارے میں گفتگو کرتے سن سکتے تھے، زندگی یا کسی اور بھی چیز کے بارے میں۔ میں کئی دفعہ شرمندہ ہوا ہوں۔ آپ تصور کریں کہ وہ جوانی میں کیسے ہوں گے خصوصا جب وہ ٹیم میں تھے۔ آپ دوسروں کو چھوڑیں انتخاب عالم کی مثال لے لیں۔ وہ پاکستان کے لیے کھیلا ہے۔ وہ کئی دفعہ ٹیم کا کوچ اور مینجر رہا ہے اور وہ ٹیم کے ساتھ پچھلے پنتالیس سالوں سے چل رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ سب سے بڑا جاہل ہے۔ اس سے بڑا جاہل آپ کو کوئی نہیں ملا ہوگا۔ اسے کوچنگ کے بارے میں خاک بھی علم نہ ہے کہ کہ کس بلا کا نام ہے۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتا کہ ان سوئنگ اور اؤٹ سو ئنگ میں کیا فرق ہے اور موصوف پاکستانی کرکٹ ٹیم کو مشورے دیتے ہیں۔
اسے کھیل کے اونچ نیچ کا کوئی علم نہیں ہے، اس لیے وہ کوئی کامیاب حمکت عملی بھی نہیں بنا سکتا۔ زیادہ تر وقت وہ اونگھتا رہتا ہے یا پھر چپ کر کے بیٹھا رہے گا یا پھر ہم سے یوگا کرائے گا۔ بس اس کے علاہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ( شعیب کی بات ورلڈ کپ کے موہالی سیمی فائنل کی حد تک درست لگتی ہے کہ انتخاب جیسا سینر بندہ بھی پاکستانی ٹیم کے ساتھ تھا ، اور پھر بھی یوں لگا کہ ٹیم کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں تھی اور بڑی آسانی سے انڈیا سے بغیر لڑے ہار گئے۔ انتخاب اور عاقب جاوید ورلڈ کپ جیتنے والی عمران کی ٹیم کے ساتھ تھے لیکن پھر بھی کھیل کو نہ سمجھ سکے کہ انہیں یہ تک یاد نہ رہا کہ انہوں نے کب پاور پلے لینا ہے اور مصباح سے اس وقت شاٹ کھلوانے شروع کیے جب پاکستان میچ پہلے ہی ہار چکا تھا۔ ایڈیٹر)
پچھلے کچھ عرصے سے انتخاب مجھے یہ کہتا رہا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا وہ اس کے لیے شرمندہ ہے۔ وہ میرے ساتھ صلح کی کوشش کرتا رہتا ہے بلکہ اس نے مجھے کہا بھی ہے کہ آیا یہ بات میرے ذہن میں ہے کہ اس نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی۔ انتخاب نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ اسے علم تھا کہ میں اسے بہت ساری باتوں کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا ہاں، تم نے میرے لیے بہت سارے مسائل کھڑے کیے لیکن پھر بھی میں بچ گیا۔ میں نے اسے بتایا کہ اس نے میری ذاتی زندگی کے بارے میں بھی ایک بیان دیا تھا اور میری رومانوی وارداتوں پر بھی بولا تھا جن کے بارے میں مجھے نہیں علم کہ اسے کیسے علم تھا ؟ اس نے ان تمام باتوں سے انکار کیا اور کہا کہ وہ مجھے بتائے گا کہ ان تمام باتوں کے پیچھے کون تھا جو میری کردار کشی کرا رہا تھا۔ میرا خیال ہے وہ اپنی اس گفتگو کو ایک طرح اپنی طرف سے مجھ سے مانگی گئی ایک معافی سمجھتا ہے لیکن میں آج بھی انتظار کررہا ہوں کہ انتخاب مجھے ساری کہانی سنائے۔
ان تمام باتوں سے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ہمارے لیے کوچ کا رکھنا ایک فضول کام ہے۔ آج ہم کوچ کو پانی لانے والے لڑکے کی طرح استعمال کرتے ہیں، جس کا کام لڑکوں کے لیے ہوٹل سے باہر چیزیں لانا ہے۔ ہاں اگر کوئی ڈیرل فوسٹر اور ٹام موڈی جیسا کوچ ہو تو پھر بات بنتی ہے۔ ان دونوں کو کرکٹ کا پتہ تھا خصوصا انہیں یہ پتہ تھا کہ ایک فاسٹ باؤلر کو کیسے ٹیم کے فائدے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ان سے کتنی بولنگ کرانی ہے اور کب اسے آرام دینا ہے اور کب ان سے کام نکلوانا ہے۔ اگر آپ کو کھلاڑیوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے تو پھر انہیں کوچنگ کرنے کا کیا فائدہ ہے۔ کیا عمر کے اس حصے میں آپ مجھے یہ بتائیں گے کہ شعیب آپ نے بال کیسے کرنی ہے؟ نہیں، بلکہ آپ کو میرے مزاج کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور مجھ سے ٹیم کی بہتری کے لیے اپنی بہترین صلاحیتیں استمال کرائیں۔
مجھے اس وقت بڑی حیرانی ہوئی جب آسٹریلوی باولر شین وارن نے مجھے کہا کہ ان کا کوچ جان بکنن ٹیم کی کامیابیوں کا سارا کریڈٹ لیتا ہے اور اس نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے بہترین کوچ ہے۔ میں نے کہا کیا فرمایا کوچ صاحب نے ؟ ذرا آپ اپنے کھلاڑیوں کو تو دیکھیں۔ ایڈم گلکرسٹ، جسٹن لینگر، ریکی پانٹنگ، شین وارن، گیلن میگرا۔ یہ کھلاڑی اگر زمبابوے کی ٹیم میں شامل ہوں تو بھی وہ جیت جائیں

© 2014 Just Scandals. All rights reserved.
Geo News | Funny Images .
Free WordPress Themes
freshlife WordPress Themes Theme Junkie